مکافات عمل

کیا ہی خوبصورت اور سکون دینے والی چیز ہے مکافات عمل۔ تم جتنے بھی چالباز، مکار بن جاؤ۔ جتنا مرضی ہیرپھیر کر لو منہ کی کھانی پڑے گئ۔ آج کسی کا گھر اجاڑ کر تم شائد اپنا گھر بھر بھی لوں مگر ۔۔۔ حساب تو دینا ہے۔ ایسے کتنے لوگ ہیں جو اپنی دولت لٹا دیتے ہیں کہ صحت مل جاۓ، اولاد بچ جاۓ مگر بے سود! انصاف کے کٹہرے میں فیصلہ ہو گیا۔تمیہں اتنا درد اٹھانا ہوگا جتنا بنتا ہے۔ 
یہ ایسی چکی ہے کہ جس میں بڑے بڑے پس جاتے ہے اور چھوٹی چھوٹی خطا یا نیکی بھی پلٹتی ہیں۔ جس نے جب اپنا فیصلہ اللّٰہ کے سپرد کر دیا ،سامنے والا گیا۔ حشر کے دن سے پہلے بھی ہوتی ہیں برپا قیامتیں۔ اللّٰہ مظلوم کو تنہا نہیں چھوڑتا۔ اطمینان رکھیں بچ کر نکلنا ممکن۔ نہیں۔
کسی کا مال کھاۓ گیں تو بچے گا آپ کا بھی نہیں۔ کسی کو دھوکہ دے کر خود کو ہوشیار سمجھنے والے کا اختتام دھوکہ ہے۔ جیسا کروں گے ویسا بھروگے اسی کا نعرہ ہے۔ یہ سب پلٹا دیتا ہے۔ 
اکثر جب نوجواں نسل بزرگوں سے بدتمیزی کرتی ہے تو میں ان بچوں سے کہتی ہوں کہ اتنا ہی برا سلوک کرنا جتنا تم اپنی دفعہ برداشت کر سکوں۔ میں نے اچھوں اچھوں کے رنگ اڈرتے دیکھے ہیں۔ خود کی دی ہوئی تکلیف کے برابر تکلیف لینے کا حوصلہ کسی میں نہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اللّٰہ ہر چیز پر قادر ہے وہ اس حال میں تمہیں لا سکتا ہے جس میں تم نے کسی کو پہنچایا ہے
إن اللہ علی کل شيء قدیر (اللہ ہر چیز پر قادر ہے) مزے کی بات تو یہ ہے جس دن اللّٰہ کی لاٹھی پڑتی ہے انسان معافی مانگنے اسی در پر کھڑا نظر آتا ہے جہاں کبھی ظلم کیا ہو۔ روح پر وہ بوجھ ہوتا ہی ایسا ہے کہ سالوں پہلے کی بات بھی ایک لاٹھی کی مار ہے۔  
بہتر ہے آج سے اپنے اعمال بہتر کریں اور دوسروں کی زندگیاں جہنم بنانا بند کر دیں ورنہ کسی کی آہ آپ کو آسمان سے زمین پر لانے کو کافی ہے
استغفرُللہ 

Comments

Popular posts from this blog

درد ‏کی ‏آذانDard ‎ki ‎Azan

خاندان ‏کی ‏پہچان