درد کی آذانDard ki Azan
آذان ہو رہی تھی مگر ٹی وی کی آواز کم نہ ہوئ. تنگ آکر ماں بولی.شرم کر لو آزان ہو رہی ہے. بے ادبی ہوتی ہے. خاموش ہو کر سننا کروں.دوست احباب بھی باتیں ایسی کرتے ہیں کہ دھیان نہیں جاتا. آزان میں بھی بریک نہ لگی.
شکریہ کہ یہ درد بھی ہے. انسان کو رب سے جوڑ دیتا ہے. سب کے سامنے ہس کے کہنے والا انسان " کوئ نہیں سب چلتا ہے" اب اتنے کہاں رہے ہم حساس" مگر یہ کیا جناب ! ادھر اللہ اکبر کی صدا آئ. اور آنکھوں کی برسات شروع.. کیوں ابھی تو کہہ رہے تھے کہ میں بہت مضبوط ہوں. اب کیوں ریزہ ریزہ ہوگے. تم تو جانتے ہو دنیا کے رموز تم تو لوگوں کی فطرت سے ہو خوب واقف ہو پھر بھی بندہ بشر جو ہوے. دنیا کے ہاتھوں کون بچا ہے.
حی علی الصلاه
حی علی الفلاع
اور برسات میں شدت آگی. کبھی ہوا ایسے کہ درد میں اپنے رب کو بتاؤ گا. میں کیوں کسی کے پاس جاؤں کہ میں کیوں اداس ہوں. مجھے کس بات سے رنج ہوا.میری امید کس کس سے تھی میں کہاں کہاں تہنا تھا. اب جب دنیا سے امیدیں نہیں وابستہ تو بس تو ہے اور بس تو ہے. وہ جو میری زرا زرا خطا پر مجھے سزا نہ دے. وہ جو میرے درد کو سمجھے بھی اور سکون بھی دے. تشہیر بھی نہ کرے رازداں بھی ہو. یہ تو رب ہی کر سکتا ہے.
بہت کمال کی ہوتی ہے یہ درد کی آذان جب انسان ٹوٹ کر اسے پکارتا ہے وہ اپنے در پے آۓ کو خالی نہیں بھیجتا. ہاں ان شدت کے درد میں بد دعا نہ کرنا کیونکہ یہ عرش تلک جاۓ گی .وہ ظلم اور ظالم پسند نہیں کرتا اور آذان میں رونے والے کسی نہ کسی کے ستاۓ ہوتے ہیں.تکلیف کی انتہا پر ہی آذان میں طبعیت ایسی ہوتی ہے اور پھر درد دینے والے کا انجام جو بھی ہو. رونے والے کو قرار آ جاتا ہے. رب سے جوڑ جاتا ہے. درد پہلی سیڑی ہے رب سے جوڑنے کی. بلا شبہ!
Comments
Post a Comment